Skip to main content

دنیا جنت نہیں بن سکتی۔۔

اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ یہ زندگی ایک امتحان مسلسل ہے تو آپ کو اس جملے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

کیونکہ زندگی میں آپ یہ جملہ اتنا زیادہ سن چکے ہوتے ہیں کہ اسکی گہرائی اور افادیت سے بے حس ہو جاتے ہیں۔

 مگر ایک خاص چیز کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گی کہ سورہ عنکبوت میں اللہ فرماتے ہیں کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اتنا کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ " ہم ایمان لائے اور انکی آزمائش نہیں ہوگی" ؟

 اس سورہ کا زندگی کے ایک مسلسل امتحان ہونے سے کیا تعلق ہے؟

 یہ سورہ شروع ہوتی ہے " الم" سے جسکے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کہ معنی اللہ کہ سوا کوئی نہیں جانتا اور اللہ تعالی نے قصداً انسانوں سے اسکے معنی پوشیدہ کھے ہیں۔

 اس لفظ "الم" سے ہمیں دو نقطوں کی طرف اشارہ ملتا ہے ایک یہ کہ دنیا میں ہمارے ساتھ ہونے والی ہر چیز کی منطق ، معنی اور گہرائی کا ہمیں علم ہونا ضروری نہیں ہے۔۔۔

اور دوسرا یہ  اس کہ معنی کو جاننا ہماری موجودہ زندگی کو گزارنے کہ مقصد میں مدد نہیں دیتا۔

 اس لئے ہمیں ہر چیز کی مصلحت میں گھسنا نہیں چاہئے، اللہ نے جو جیسے دیا ہے اسے قبول کرنا چاہئے۔۔۔

 مگر ہماری دنیا کی زندگی کا مقصد ہے کیا؟

 ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہم تو نماز پڑھتے ہیں، قرآن بھی پڑھنا شروع کردیا ہے، نیکی کی طرف بھی کچھ کچھ بڑھنے لگے ہیں مگر پھر بھی لوگ ہمیں مشکل میں ڈالتے رہتے ہیں، اور کیوں ہمارا فلاں مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے۔۔۔

 ہمارے ذہن میں دین پر چلنے کی ایک خاص نیت ہوتی ہے۔ ہمارے اعمال بھی مشروط ہوتے ہیں اور عبادتیں بھی۔

مگر قرآن کا فلسفہ دنیا میں موجود دوسرے مذہبوں کی طرح مشروط عبادتیں اور مشروط نیکیاں نہیں مانگتا۔۔۔

 قرآن اس حوالے سے ایک بلکل جدا نقطہ نظر دیتا ہے۔

  ہم جو بھی نیکی کریںگے وہ اس ارادے کہ ساتھ نہیں ہونی چاہئے کہ اگر ہم ایسا کریں تو ہمارا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ کیونکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہوگا۔۔۔

ہمیں قرآن سے ہی معلوم ہوتا ہے ہماری دنیا کی زنگی کا مقصد اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔۔۔

اللہ کی نظر میں کامیابی کیا ہے ؟ 

 اللہ قرآن میں ایسے ہی مسلمان کو کامیابی کی خوشخبری دیتے ہیں۔ جو اللہ کی مرضی کے مطابق دنیا کی زندگی گزارے۔ اگرچہ دنیا والوں کی نظر میں وہ ایک غریب کسان ہو سکتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کی نظر میں کامیابی شہرت دولت اور عزت کی بلندی کو پہنچنا ہے۔

نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ دونوں طریقے ایک دوسرے کہ متضاد ہیں۔ لہذا دونوں کے چیلنچیز الگ ہوتے ہیں۔

 اور دیکھنے کی بات اس میں اصل یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کی زندگی گزارنے کہ دوران  ہمارے اوپر جو کٹھن حالات آئیں ان کو مستقل مزاجی کہ ساتھ کیسے گزارا جائے؟

 کیونکہ ٹھنڈا ٹھنڈا تو سب کھیل لیتے ہیں اصل پتا تو اس وقت چلتا ہے جب ایک طرف آگ ہو اور دوسری طرف بظاہر ہریالی نظر آتی ہو۔۔۔ یہ ہے اصل امتحان کا وقت۔ اور یہی ہے اصل امتحان اور یہی اس آیت کا  نقطہ ہے جو میں نے اوپر شروع میں لکھی ہے۔

اوپر دی گئی آیت سے ہمیں یہ پتا چلا صرف یہ کہہ دینا کہ میں مسلمان ہوں کافی نہیں ہونے والا۔

 دنیا کے ہر بڑے سسٹم میں گھسنے سے پہلے ایک خاص قسم کی جانچ ہوتی ہے جس سے گزر کر آپ کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ آپ دراصل وہ ہیں جو آپ منہ سے کہہ رہے ہیں ۔

اللہ نے اوپر دی گئی آیت میں جانچ کے لئے جو عربی لفظ قرآن میں استعمال کیا ہے وہ ہے " یفتنون" جسکا روٹ ہے فتن۔ جسکے معنی ہیں سونے چاندنی یا دیگر معدنیات کو جانچنے کے لئے آگ میں پھگلانا۔

کھرے اور کھوٹے کو الگ کرنے کہ لئے آگ میں پگھلنا نا گزیر ہے۔ اس عمل کہ بغیر ایمان پورا نہیں ہوتاہے۔

جنکی خواہش ہے کہ وہ دنیا میں بھی ٹھاٹ سے رہیں اور آخرت میں بھی مزے ہی مزے کریں تو انکے لئے ایک رئیلٹی چیک قرآن سے ملتا ہے کہ ہم ضرور آزمائیش کریں گے کہ کون اپنی منہ کی باتوں کو پورا کرتا ہے۔

 کہنے کو تو سب کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے فاقے بھی کر لیں گے مگر جب واقعتا فاقوں کا وقت آتا ہے تو کون واقعی بھوکا رہ کر ایمان پر قائم رہتا ہے۔ دین کی رسی سے ڈگمگاتا نہیں ہے۔

جان لیں کہ دونوں جگہ جنتیں نہیں مل سکتیں ہیں۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے تعلیمی زندگی کہ امتحانات کہ وقت جس نے پیپرز سے پہلے کٹھن وقت گزار کر محنت کرلی اور اپنی محنت کہ بل بوتے پر امتحانات کامیابی سے حل کر لیے۔ اسکے لئے بعد کی آسانی ہے۔

اور جس نے پیپرز کہ وقت تفریحات میں وقت گزارا خیالی پلاؤ بناتے ہوئے کہ سب اچھا ہوجائے گا تو ریزلٹ کہ وقت اسکی حالت ضرور بری ہوگی۔

فرق امتحان اور ریزلٹ کا ہے۔ یہ دنیا امحتان ہے اور آخرت ریزلٹ ہے۔

 

 


Popular posts from this blog

How to come out of your shell and be what you dream to?

I read Limitless by Jim Kwik which inspired me to change my mindset, perspective about how we are brought up and about the society where we breathe in. it gave me good reasons to spread this mindset to others so others can benefit and transform their lives as well.  what they teach you?  Schools only teach you what to learn, what to think, what to remember but they never teach you how to learn, how to think and how to remember. They fill you up with information. But they won't go underneath of this and never teach how to self-educate, how to go about enriching our minds; discovering new concepts. Tagging : Parents, friends, acquaintances, and society tend to label a child which eternally becomes their inner voice for the rest of their lives. It becomes the child's blueprint. That negative label hatches into the child’s subconscious keeping him enslaved for the rest of his life. Labeling a child with something is like giving the input and getting the output of the same level. ...

Homeschooler's science fair 2021

Karachi homeschoolers arranged a science fair of its own kind every year. But since COVID-19 hit it was all halted. Today on 6 November I got to attend the fair. It was enormously beautiful in the sense that each child's individuality was enhanced through their science masterpiece. Every child was confident and patient enough to explain it to others. The environment was lively. There was a catapult, digestive system, the evolution of writing, therapeutic herbs, volcano eruption, mirror games, circuits, and a few others that I couldn't catch because I arrived late. Congratulations Homeschoolers!!!

Your pain came to save you from something bigger