اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ یہ زندگی ایک امتحان مسلسل ہے تو آپ کو اس جملے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ کیونکہ زندگی میں آپ یہ جملہ اتنا زیادہ سن چکے ہوتے ہیں کہ اسکی گہرائی اور افادیت سے بے حس ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک خاص چیز کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گی کہ سورہ عنکبوت میں اللہ فرماتے ہیں کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اتنا کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ " ہم ایمان لائے اور انکی آزمائش نہیں ہوگی" ؟ اس سورہ کا زندگی کے ایک مسلسل امتحان ہونے سے کیا تعلق ہے؟ یہ سورہ شروع ہوتی ہے " الم" سے جسکے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کہ معنی اللہ کہ سوا کوئی نہیں جانتا اور اللہ تعالی نے قصداً انسانوں سے اسکے معنی پوشیدہ کھے ہیں۔ اس لفظ "الم" سے ہمیں دو نقطوں کی طرف اشارہ ملتا ہے ایک یہ کہ دنیا میں ہمارے ساتھ ہونے والی ہر چیز کی منطق ، معنی اور گہرائی کا ہمیں علم ہونا ضروری نہیں ہے۔۔۔ اور دوسرا یہ اس کہ معنی کو جاننا ہماری موجودہ زندگی کو گزارنے کہ مقصد میں مدد نہیں دیتا۔ اس لئے ہمیں ہر چیز کی مصلحت میں گھسنا نہیں چاہئے، اللہ نے جو جیسے دیا ہے اسے قبو...