Skip to main content

A point called Zero!!!

ہر انسان کی زندگی میں ایسا مقام بارہا آتا ہے کہ اسے اپنے ارد گرد سب کچھ بے معنی اور بے فائدہ سا لگنے لگتا ہے۔ کچھ ایسے واقعات کچھ ایسی ٹھوکریں انسان بار ہا کھاتا ہے کہ اسے کچھ لمحوں کے لئے یہ احساس شدت سے گھیر لیتا ہے کہ آگے کچھ نہیں بچا۔۔۔ اور تمام راستے بند ہوچکے ہیں۔۔۔۔ اسے وہاں سے کوئی نکالنے والا نہیں ہے۔۔۔۔ اور اسے بس یہیں تڑپ تڑ پ کر سانس توڑنی ہوگی۔۔۔ ایسے دوراہے زندگی میں آتے ہیں کہ آگے گھاٹی اور پیچھے ویرانی نظر آتی ہے۔۔۔ ایسے موڑ جن میں انسان کہیں کا نہیں رہتا۔۔۔ وجوہات کچھ بھی ہو سکتیں ہیں۔۔۔۔  کچھ غلط فیصلے، کبھی کبھار آزمائشیں، کبھی انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے نتیجے میں۔۔۔ زندگی کہ ایسے موڑ کو اگر  آپ  ’’پوائنٹ زیرو‘‘ کہیں تو کچھ غلط نا ھوگا۔۔۔ کیونکہ اس جگہ سے آپ کو ہر چیز زیرو سے شروع کرنی پڑتی ہے۔۔۔ ہر چیز کو الف سے لے کر چلنا پڑتا ہے۔۔ 

اللہ دلوں کے حالوں کو جاننے والا ھے وہ جانتا ھے کہ کب انسان کس کیفیت سے گزر رہا ھے، کون دلوں پر پتھر رکھے چل رہا ھے، کس کا دل غموں کے بوجھ سے بوجھل ھے، کس کو یہ زندگی قید کی سی معلوم ھورہی ھے، کون گھٹ گھٹ کر اندر سے رو رہا ہے، کس پر یہ دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہو چکی ہے، وہ مالک ہر اس بندے کو اسی طرح دیکھ رہا ہے اور اسکے دل پر گزرنے والی  کیفیات اسی طرح جان رہا ہے جس طرح وہ  حضرت کعب بن مالک کو دیکھ رہا تھا  اور ان کی دل کی حالت کو بخوبی جانچ  رہا تھا۔۔۔ اس حالت کو  خالق اور جاننے والے رب نے اپنے الفاظ میں اسے اس طرح بیان کیا کہ:

حَتّٰٓي  اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ

یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے ۔

جن کیفیات سے وہ دن ، رات ، صبح، شام گزر رہے تھے وہ سب کچھ اللہ کہ سامنے تھا۔۔۔ اور اس مالک نے انہیں ان کے حال پر نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ انکی مکمل نگرانی کی جارہی تھی۔ انکے جذبوں کو بھانپا جارہا تھا۔ وہ  رب ایک لمحے کہ لئے بھی غفلت میں نہیں تھا۔۔۔ اس مالک نے ایک سیکنڈ کے لئے بھی کعب بن مالک کی حالت سے منہ نہیں موڑا تھا۔۔۔۔ آ ج بھی وہ مالک نہیں بدلہ۔۔۔ آج بھی وہ مالک ایک لمحے کی غفلت میں نہیں آیا۔۔۔ 

آج بھی اس مالک کا کوئی بندہ انہیں کیفیات سے گزر رہا ہوتا ہے اور ایسی لاچاری و بے بسی کی حالت میں ہوتا ہے جہاں اسکا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، کوئی مددگار نہیں ہوتا تو ایسی ہر حالت میں  صرف وہی مالک اس کا پرسان حال ہوتا ہے۔۔۔ اسے ایک ایک لمحے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں گرفتار بندہ اللہ پر توکل باندھے اور توکل بھی ایسا کہ جس کے بعد کسی اور کی طرف نا کبھی دل راغب ہو نا ذہن۔۔۔ بندہ جب ہر دوسرے انسان اور دنیا میں موجود تمام وسائل سے نگاہ ہٹا کر ایک اسی مالک کی طرف پوری طرح سے توجہ لگا دے۔۔۔ توکل کا مکمل سرمایہ  صرف اسی مالک کی طرف لگا دے۔۔۔۔ تو یقینا ایک دن آتا ہے کہ وہ باخبر مالک اس بندے کی امیدو ں اور توقعات سے بڑھ کر اسے نوازتا ہے۔۔۔ انسان چاہتا ہے کہ ہر چیز کا حل اسے فورا مل جائے۔ مگر  اس مالک کو اپنا کیا گیا وعدہ اپنے وقت پر پورا کرنا ہے، کچھ کاروائیاں ہونی ہوتیں ہیں جو اسی  ترتیب کہ ساتھ ہونی ہے جو اس نے بنا دی ہے۔ فقط وقت کا فاصلہ ہے جو طے کرنا باقی ہے۔ جب وقت کی چادر اٹھائی جائے گی تمہیں اپنے رب کی قوت اور رحمت پر رشک ہو گا۔اور تم جان جاؤ گے کہ تمہارے رب نے تمہیں  نہ کبھی چھوڑا تھا اور نا ہی وہ بھولا تھا۔وہ مالک بھولنے والا نہیں ہے۔ یہ اس مالک کی صفات میں سے نہیں کہ وہ اپنے پیدا کردہ غلاموں کو پل دو پل کہ لئے بھی بھول جائے۔

93.3.  مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى ۝

 نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوگیا ہے۔

 

93.4.  وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى ۝ۭ

یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا ۔

 

93.5.  وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى ۝ۭ

تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی و خوش ہو جائے گا۔ 

 







Popular posts from this blog

How to come out of your shell and be what you dream to?

I read Limitless by Jim Kwik which inspired me to change my mindset, perspective about how we are brought up and about the society where we breathe in. it gave me good reasons to spread this mindset to others so others can benefit and transform their lives as well.  what they teach you?  Schools only teach you what to learn, what to think, what to remember but they never teach you how to learn, how to think and how to remember. They fill you up with information. But they won't go underneath of this and never teach how to self-educate, how to go about enriching our minds; discovering new concepts. Tagging : Parents, friends, acquaintances, and society tend to label a child which eternally becomes their inner voice for the rest of their lives. It becomes the child's blueprint. That negative label hatches into the child’s subconscious keeping him enslaved for the rest of his life. Labeling a child with something is like giving the input and getting the output of the same level. ...

Homeschooler's science fair 2021

Karachi homeschoolers arranged a science fair of its own kind every year. But since COVID-19 hit it was all halted. Today on 6 November I got to attend the fair. It was enormously beautiful in the sense that each child's individuality was enhanced through their science masterpiece. Every child was confident and patient enough to explain it to others. The environment was lively. There was a catapult, digestive system, the evolution of writing, therapeutic herbs, volcano eruption, mirror games, circuits, and a few others that I couldn't catch because I arrived late. Congratulations Homeschoolers!!!

Your pain came to save you from something bigger