Skip to main content

بچے کیوں بگڑ گئے؟

ہم سے پہلے نسلوں میں ایک بچہ اپنا بچپن دادی،دادا، نانا، نانی، چاچو، چاچی، خالاؤں اور پھوپھوؤں اور اسی طرح کہ بہت سے رشتے داروں سے بھرے ہوئے گھر میں گزارتا تھا۔ اگر ماں، باپ مشترکہ خاندانی سسٹم میں نہیں رہتے تھے تب بھی بچوں کا میل ملاپ بہت زیادہ ہوتا تھا۔ محلے داریاں بھی بہت ہوتی تھیں۔ ایسے ماحول میں بچے خود کو محفوظ تصور کرتے ہوئے بڑھتے تھے۔ انکو گھر میں بھری ہوئی عورتوں سے oxytocin کی وافر مقدار ملتی رہتی تھی جس کی وجہ سے انکی نفسیاتی صحت عمومی طور پر الجھنوں کا شکار ہوتی کم نظر آتی تھی۔ خاص طور پر ماں سے ملنے والی oxytocin کی وافر مقدار ہی ایک بچے کو انسان بناتی تھی۔
مغربی تہذیب کہ انخلا سے ہم مسلمانوں کو نقصان یہ ہوا کہ ہمارے بچوں کہ پاس رشتے ناطے ایک تو بچتے ہی کم ہیں سونے پر سہاگہ یہ ہوتا ہے کہ ماں اور باپ دونوں ہی پیسے کمانے کی فکر کہ لئے ہر روز گھر سے غائب ہوتے ہیں۔ بچہ بہت سی insecurities کہ ساتھ اکیلے لڑ رہا ہوتا ہے۔ اسکے پاس چیزں نت نئی ہوتی ہیں اور گھر میں بہت اچھا فرنیچربھی ہوتا ہے۔

 

ماں باپ standard of living اونچا کر کہ سمجھتے ہیں انہوں نے بچے کو بہت کچھ دے دیا ہے۔ مگر وہ اپنی اس سوچ میں غلطی پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس عمر میں بچےکو اچھی چیزیں نہیں ایک اچھا اور گہرا تعلق چاہئے ہوتا ہے۔ اور آپ محنت اس چیز پر کر رہے ہوتے ہیں جس کی اس کو نا ضرورت ہے نا اسکے پاس اسکی اہمیت ہے۔ کیونکہ پیسے کی بڑائی لے کر تو بچہ پیدا ہی نہیں ہوتا ہے۔ بچے کو تو ہم یہ بتاتے ہیں کہ پیسہ کتنا ضروری ہے۔ یہ ہم اسکو باور کرواتے ہیں کہ پیسے نہیں ہونگے تولوگ ایسا ویسا کہیں گے۔ بچے کہ پاس تو امیر غریب کا کوئی خانہ ہوتا ہی نہیں ہے۔
دوسرا یہ کہ بچے کو تعلق کا ایک فقدان اپنی زندگی میں محسوس ہوتا ہے۔ خود کو کہیں نا کہیں منسوب کرنا بچے کی قدرتی جبلت ہے۔ جب اسکو یہ ضرورت انسانوں کہ اندر سے پوری ہوتی نظر نہیں آتی تو بچے دوسرے بہت سے طریقوں سے اس کو پورا کر رہے ہوتے ہیں جن میں سے ایک انٹرنیٹ سے جڑے رہنا ایک بہت بڑا disorder بن جاتا ہے۔ اب وہ پورن ہو یا مویز ہوں یا لائکس اور subscription حاصل کرنے کا rush ہو۔ کبھی پورن اسکو dopamine دے دے کر چلا رہی ہوتی ہے کبھی لائکس سے dope پوری ہوتی رہتی ہے۔ اور بلوغت سے پہلے ہی آجکل بچے اپنی Dope مخالف صنف سے بھی حاصل کر رہے ہیں۔
آج کا نوجوان دو وقت کی روٹی کہ بغیر رہنے کا سوچ سکتا ہے مگر انٹرنیٹ کی عدم فراہمی اسکو hypomania میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس رویے کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ جس تک آج کہ ماں، باپ کہ پاس نا جگرا ہے اور نا ہی وقت۔ آج کہ والدین کا وہی منترا ہے جو مغرب نے انہیں کچھ عرصے پہلے تھما دیا تھا۔ "جیو اور جینے دو" جو کرنا ہے کرو مگر خوش نظر آؤ۔ مغرب نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ you live only once (yolo) تو ہم سب یہی کر رہے ہیں۔
آج کہ والدین یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ انکہ بچوں کہ چہروں پر نظر آنے والی خوشی dope کا ایک سطحی shot ہے یا واقعتاً حقیقی خوشی ہے۔ اس جھنجھٹ میں پڑنے کا ٹائم کس کہ پاس ہے کہ خوشی کی خصوصیات پر تحقیق کریں۔
تعلق (connection) ایک بچے کی سب سے اہم نفسیاتی ضرورت ہے جب تعلق کی کمی ہوگی تو لامحالہ anxiety پیدا ہو گی۔ جسکی وجہ سے بہت سے ذہنی اور رویے کہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ تعلق کے فقدان کہ نتیجے میں بچوں میں brain developmental disabilities بڑھ رہی ہیں اور یہی وہ جڑ ہے جوadulthood میں جا کر بڑی pathology کی وجہ بنتی ہیں۔
نتیجا ہماری جوان نسل بہت سے abnormal behavior syndrome ڈپریشن، ADHD, ADD, Autism اور انگزائٹیز میں مبتلا ہے۔ مگر کوئی اس کی تہہ تک جانے کہ لئے تیار نہیں ہے۔ بس یہ کہہ کر ذمہ فارغ ہوجاتا ہے کہ آج کل کہ بچے کہاں سنتے ہیں۔
بچوں کو سنا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ کیوں نہیں سنتے۔
مغلوب قوموں کی علامت ہے کہ وہ اپنی آقا قوم کی ہر ایک چیز کو اپناتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے۔ گریبان میں جھانک کر دیکھیں آپ کیوں خود کو اچھا دکھانے کہ لئے مغربی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
فیملی اسٹرکچر کا ڈھانچہ بگڑ چکا ہے جب فیملی اسٹرکچر بگڑتا ہے تو معاشرہ بے لگام ہوتا ہے۔ معاشرہ بے لگام ہوتا ہے تو قومیں ختم ہوتی ہیں۔
اور پھر ہر آتے دن کے ساتھ ایسے واقعات کی بہتات نظر آتی ہے کہ کبھی ایک مرد خود اپنی نومولود بیٹی کو مار ڈالتا ہے۔ کبھی ماں اپنے ذہنی خلفشار کی وجہ سے اپنی اولاد کا گلا کاٹ دیتی ہے۔ یہ رویے تو صرف علامات ہیں بیماری تو بہت بڑی ہے۔ اور اسکی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا باپ لیڈر شپ کا رول ادا کرنے کہ قابل نہیں رہا اور ماں نسل کو پروان چڑھانے سے مفلوج بنائی جارہی ہے۔


 

Popular posts from this blog

How to come out of your shell and be what you dream to?

I read Limitless by Jim Kwik which inspired me to change my mindset, perspective about how we are brought up and about the society where we breathe in. it gave me good reasons to spread this mindset to others so others can benefit and transform their lives as well.  what they teach you?  Schools only teach you what to learn, what to think, what to remember but they never teach you how to learn, how to think and how to remember. They fill you up with information. But they won't go underneath of this and never teach how to self-educate, how to go about enriching our minds; discovering new concepts. Tagging : Parents, friends, acquaintances, and society tend to label a child which eternally becomes their inner voice for the rest of their lives. It becomes the child's blueprint. That negative label hatches into the child’s subconscious keeping him enslaved for the rest of his life. Labeling a child with something is like giving the input and getting the output of the same level. ...

Homeschooler's science fair 2021

Karachi homeschoolers arranged a science fair of its own kind every year. But since COVID-19 hit it was all halted. Today on 6 November I got to attend the fair. It was enormously beautiful in the sense that each child's individuality was enhanced through their science masterpiece. Every child was confident and patient enough to explain it to others. The environment was lively. There was a catapult, digestive system, the evolution of writing, therapeutic herbs, volcano eruption, mirror games, circuits, and a few others that I couldn't catch because I arrived late. Congratulations Homeschoolers!!!

Your pain came to save you from something bigger